حدثنا هارون بن سعيد ، وحرملة بن يحيى ، قال هارون: حدثنا، وقال حرملة، اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس بن يزيد ، عن ابن شهاب ، قال: حدثني عروة بن الزبير ، ان عائشة ، قالت: دخل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم، وعندي امراة من اليهود، وهي تقول: هل شعرت انكم تفتنون في القبور، قالت: فارتاع رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال: " إنما تفتن يهود "، قالت عائشة: فلبثنا ليالي، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " هل شعرت انه اوحي إلي، انكم تفتنون في القبور؟ "، قالت عائشة: فسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد، " يستعيذ من عذاب القبر ".
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور یہودی عورت میرے پاس بیٹھی ہوئی تھی، وہ کہنے لگی: تم کو معلوم ہے تم قبر میں آزمائے جاؤ گے (یعنی تمہارا امتحان ہو گا اور جو امتحان میں پورے نہ اترے تو عذاب ہو گا) یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کانپ گئے اور فرمایا: ”یہ یہود کے واسطے ہو گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر ہم چند راتیں ٹھہرے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ کو معلوم ہے کہ میرے اوپر وحی اتری ہے کہ قبر میں تمہاری آزمائش ہو گی۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے سنا اس دن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے عذاب سے پناہ مانگا کرتے تھے۔