وحدثني القاسم بن زكرياء ، حدثنا حسين بن علي الجعفي ، عن زائدة ، عن سليمان ، عن إبراهيم ، عن علقمة ، عن عبد الله ، قال: صلينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإما زاد او نقص، قال إبراهيم: وايم الله، ما جاء ذاك، إلا من قبلي، قال: فقلنا: يا رسول الله، احدث في الصلاة شيء؟ فقال: لا، قال: فقلنا له: الذي صنع، فقال: " إذا زاد الرجل او نقص، فليسجد سجدتين "، قال: ثم سجد سجدتين.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ کیا یا کم کیا۔ ابراہیم نے کہا: اللہ کی قسم یہ (وہم) میری ہی طرف سے ہے۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! کیا نماز میں کوئی نیا حکم ہوا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر ہم نے وہ بات کہی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی (یعنی زیادتی یا نقصان) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب کوئی آدمی کچھ زیادہ کرے یا کم کرے تو چاہیے کہ سہو کے دو سجدے کرے۔“ کہا (راوی نے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدے کیے۔