كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام

وحدثنا عثمان ، وابو بكر ابنا ابي شيبة، وإسحاق بن إبراهيم ، جميعا، عن جرير، قال عثمان: حدثنا جرير ، عن منصور ، عن إبراهيم ، عن علقمة ، قال: قال عبد الله : صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال إبراهيم، زاد او نقص: فلما سلم، قيل له: يا رسول الله، احدث في الصلاة شيء؟ قال: وما ذاك؟ قالوا: صليت كذا وكذا، قال: فثنى رجليه، واستقبل القبلة، فسجد سجدتين، ثم سلم، ثم اقبل علينا بوجهه. فقال: " إنه لو حدث في الصلاة شيء، انباتكم به، ولكن إنما انا بشر انسى، كما تنسون، فإذا نسيت فذكروني، وإذا شك احدكم في صلاته، فليتحر الصواب، فليتم عليه، ثم ليسجد سجدتين ".

‏‏‏‏ علقمہ سے روایت ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور نماز میں کچھ کمی بیشی ہوئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! کیا نماز میں کوئی نیا حکم ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کیا؟ لوگوں نے کہا: آپ نے ایسا ایسا کیا۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پیروں کو موڑا اور قبلے کی طرف منہ کیا اور دو سجدے کیے پھر سلام پھیرا اور ہماری طرف منہ کیا اور فرمایا: اگر نماز کے باب میں کوئی نیا حکم ہوتا تو میں تم کو بتلاتا بات اتنی ہے کہ میں بھی آدمی ہوں جیسے اور آدمی بھولتے ہیں میں بھی بھولتا ہوں۔ جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دو اور جب تم میں سے کوئی نماز میں شک کرے تو سوچ کر جو ٹھیک معلوم ہو اس پر نماز پوری کرے پھر دو سجدے کرے۔

صحيح مسلم # 1274
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp