كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام

حدثنا حدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا يحيى بن سعيد ، حدثنا هشام ، حدثنا قتادة ، عن سالم بن ابي الجعد ، عن معدان بن ابي طلحة ، ان عمر بن الخطاب ، خطب يوم الجمعة، فذكر نبي الله صلى الله عليه وسلم، وذكر ابا بكر، قال: إني رايت كان ديكا نقرني ثلاث نقرات، وإني لا اراه إلا حضور اجلي، وإن اقواما يامرونني ان استخلف، وإن الله لم يكن ليضيع دينه، ولا خلافته، ولا الذي بعث به نبيه صلى الله عليه وسلم، فإن عجل بي امر، فالخلافة شورى بين هؤلاء الستة، الذين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض، وإني قد علمت ان اقواما يطعنون في هذا الامر، انا ضربتهم بيدي هذه على الإسلام، فإن فعلوا ذلك، فاولئك اعداء الله الكفرة، الضلال، ثم إني لا ادع بعدي شيئا اهم عندي من الكلالة، ما راجعت رسول الله صلى الله عليه وسلم في شيء ما راجعته في الكلالة، وما اغلظ لي في شيء ما اغلظ لي فيه، حتى طعن بإصبعه في صدري، فقال: يا عمر، الا تكفيك آية الصيف التي في آخر سورة النساء؟ وإني إن اعش، اقض فيها بقضية يقضي بها من يقرا القرآن ومن لا يقرا القرآن، ثم قال: اللهم إني اشهدك على امراء الامصار، وإني إنما بعثتهم عليهم ليعدلوا عليهم، وليعلموا الناس دينهم، وسنة نبيهم صلى الله عليه وسلم، ويقسموا فيهم، فيئهم ويرفعوا إلي ما اشكل عليهم من امرهم، ثم إنكم ايها الناس تاكلون شجرتين، لا اراهما إلا خبيثتين هذا، البصل، والثوم، لقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم، " إذا وجد ريحهما من الرجل في المسجد، امر به، فاخرج إلى البقيع، فمن اكلهما فليمتهما طبخا "،

‏‏‏‏ معدان بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبہ پڑھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور کہا: میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک مرغ نے مجھے تین ٹھونگیں ماریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ میری موت اب نزدیک ہے۔ بعض لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ تم اپنا جانشین اور خلیفہ کسی کو کر دو لیکن اللہ تعالیٰ اپنے دین کو برباد نہیں کرے گا نہ اپنی خلافت کو نہ اس چیز کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کر بھیجا تھا۔ اگر میری موت جلد ہو جائے تو خلافت مشورہ کرنے پر چھ آدمیوں کے اندر رہے گی جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات تک راضی رہے اور میں جانتا ہوں کہ بعض لوگ طعن کرتے ہیں اس کام میں جن کو میں نے خود اپنے اس ہاتھ سے مارا ہے اسلام پر پھر اگر انہوں نے ایسا کیا (یعنی اس طعن کو درست سمجھے) تو وہ دشمن ہیں اللہ کے۔ اور کافر گمراہ ہیں اور میں اپنے بعد کسی چیز کو اتنا مشکل نہیں چھوڑتا جتنا کلالہ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی بات کو اتنی بار نہیں پوچھا جتنی بار کلالہ کو پوچھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مجھ پر کسی بات میں اتنی سختی نہیں کی کہ جتنی اس میں کی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے ٹھونسا مارا میرے سینہ میں اور فرمایا: اے عمر! کیا تجھ کو وہ آیت بس نہیں جو گرمی کے موسم میں اتری سورۂ نساء کے آخر میں «يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّـهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ» (۴:النساء:۱۷۶) آخر تک اور میں اگر زندہ رہوں تو کلالہ میں ایسا فیصلہ کروں گا جس کے موافق ہر شخص حکم کرے خواہ قرآن پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا اللہ! میں تجھ کو گوہ کرتا ہوں ان لوگوں پر جن کو میں نے ملکوں کی حکومت دی ہے (یعنی نائبوں اور صوبہ داروں اور عالموں پر) میں نے ان کو اسی لئے بھیجا کہ وہ انصاف کریں اور لوگوں کو دین کی باتیں بتلائیں اور اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ سکھائیں اور ان کا کمایا ہوا مال جو لڑائی میں ہاتھ آئے بانٹ دیں اور جس بات میں ان کو مشکل پیش آئے اس کو مجھ سے دریافت کریں۔ پھر اے لوگو! میں دیکھتا ہوں تم دو درختوں کو کھاتے ہو میں ان کو ناپاک سمجھتا ہوں وہ کون؟ پیاز اور لہسن اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب ان دونوں کی بو کسی شخص میں سے آتی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے وہ نکالا جاتا مسجد سے بقیع کی طرف اب اگر کوئی ان کو کھائے تو خوب پکا کر (تاکہ ان کے منہ میں بدبو نہ رہے)۔

صحيح مسلم # 1258
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp