كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام

وحدثني ابو الطاهر ، وحرملة ، قالا: اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، قال: حدثني عطاء بن ابي رباح ، ان جابر بن عبد الله ، قال: وفي رواية حرملة، وزعم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " من اكل ثوما، او بصلا، فليعتزلنا او ليعتزل مسجدنا، وليقعد في بيته، وإنه اتي بقدر فيه خضرات من بقول، فوجد لها ريحا "، فسال، فاخبر بما فيها من البقول، فقال: قربوها إلى بعض اصحابه، فلما رآه كره اكلها، قال: كل، فإني اناجي من لا تناجي.

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پیاز یا لہسن کھائے وہ ہم سے جدا رہے یا ہماری مسجد سے جدا رہے اور اپنے گھر بیٹھے۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہانڈی لائی گئی جس میں ترکاری تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بدبو پائی تو پوچھا: اس میں کیا پڑا ہے؟ جب آپ کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو فلاں صحابی کے پاس لے جاؤ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اس نے بھی اس کا کھانا برا سمجھا (اس وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کھایا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کھالے۔ میں تو اس سے سرگوشی کرتا ہوں جس سے تو نہیں کرتا۔ (یعنی فرشتوں سے)

صحيح مسلم # 1253
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp