كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وزهير بن حرب جميعا، عن ابن علية ، قال زهير: حدثنا ابن علية ، عن القاسم بن مهران ، عن ابي رافع ، عن ابي هريرة ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، " راى نخامة في قبلة المسجد، فاقبل على الناس، فقال: ما بال احدكم، يقوم مستقبل ربه فيتنخع امامه، ايحب احدكم ان يستقبل، فيتنخع في وجهه، فإذا تنخع احدكم، فليتنخع عن يساره، تحت قدمه، فإن لم يجد، فليقل هكذا، ووصف القاسم، فتفل في ثوبه، ثم مسح بعضه على بعض ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں قبلے کی طرف تھوک دیکھا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تمہارا کیا حال ہے کہ تم میں سے کوئی اپنے پروردگار کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوتا ہے پھر اپنے سامنے تھوکتا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ کوئی اس کی طرف منہ کرے پھر اس کے منہ پر تھوک دے۔ جب تم میں سے کسی کو تھوک آئے تو بائیں طرف قدم کے نیچے تھوکے۔ اگر جگہ نہ ہو تو ایسا کرے۔ قاسم نے جو اس حدیث کا راوی ہے یوں بیان کیا کہ اپنے کپڑے میں تھوکا پھر اس کپڑے کو مل ڈالا۔

صحيح مسلم # 1228
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp