حدثنا إسحاق بن إبراهيم ، وإسحاق بن منصور ، قالا: اخبرنا النضر بن شميل ، اخبرنا شعبة ، حدثنا محمد وهو ابن زياد ، قال: سمعت ابا هريرة ، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن عفريتا من الجن، جعل يفتك علي البارحة ليقطع علي الصلاة، وإن الله امكنني منه فذعته، فلقد هممت ان اربطه إلى جنب سارية من سواري المسجد، حتى تصبحوا تنظرون إليه اجمعون او كلكم، ثم ذكرت قول اخي سليمان: رب اغفر لي، وهب لي ملكا لا ينبغي لاحد من بعدي، فرده الله خاسئا "، وقال ابن منصور شعبة : عن محمد بن زياد ،
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شریر جن میری نماز توڑنے کے لئے پچھلی رات کے وقت مجھے پکڑنے لگا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو میرے قابو میں کر دیا۔ میں نے اس کا گلا دبایا اور میرا قصد یہ تھا کہ میں اس کو مسجد کے ایک ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب اس کو دیکھ لو لیکن مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آئی۔ انہوں نے یہ دعا کی تھی، اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت دے جو میرے بعد پھر کسی کو نہ ملے (تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی ہی سلطنت دی، شیطان ان کے تابع تھے، جن مسخر تھے اور پرند ان کی اطاعت میں تھے) پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو (جن کو) ذلت کے ساتھ بھگا دیا۔“