حدثني علي بن حجر السعدي ، اخبرنا علي بن مسهر ، حدثنا الاعمش ، عن إبراهيم بن يزيد التيمي ، قال: كنت اقرا على ابي القرآن في السدة، فإذا قرات السجدة، سجد، فقلت له: يا ابت، اتسجد في الطريق؟ قال: إني سمعت ابا ذر، يقول: " سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم، عن اول مسجد وضع في الارض؟ قال: المسجد الحرام، قلت: ثم اي؟ قال: المسجد الاقصى، قلت: كم بينهما؟ قال: اربعون عاما، ثم الارض لك مسجد، فحيثما ادركتك الصلاة، فصل ".
ابراہیم بن یزید تیمی سے روایت ہے کہ میں اپنے باپ کو قرآن سنایا کرتا «سده» میں ( «سده» وہ مقام جو مسجد سے خارج ہو دروازہ کے باہر جہاں لوگ بیٹھ کر خرید و فروخت اور باتیں کرتے ہیں اور نسائی کی روایت میں «سكه» ہے یعنی گلی میں) جب میں سجدہ کی آیت پڑھتا تو وہ سجدہ کرتے میں نے ان سے کہا: بابا! آپ راستہ میں سجدہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلے کون سی مسجد بنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد حرام“ میں نے پوچھا: پھر کون سی مسجد؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد اقصیٰ۔“ میں نے پوچھا ان دونوں میں کتنے برس کا فرق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چالیس برس کا، پھر ساری زمین تیرے لئے مسجد ہے جہاں نماز کا وقت آ جائے وہاں نماز پڑھ لے۔“