كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا يحيى بن يحيى ، اخبرنا ابو خيثمة ، عن سماك بن حرب ، قال: سمعت النعمان بن بشير ، يقول: " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، يسوي صفوفنا، حتى كانما يسوي بها القداح، حتى راى انا قد عقلنا عنه، ثم خرج يوما، فقام حتى كاد يكبر، فراى رجلا باديا صدره من الصف، فقال عباد الله، لتسون صفوفكم، او ليخالفن الله بين وجوهكم "،

‏‏‏‏ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں برابر کیا کرتے تھے حتٰی کہ ایسا معلوم ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے تیر کی لکڑی برابر فرما رہے ہوتے اور یہ سلسلہ جاری رہا، تاوقتیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا کہ ہم لوگ اس بات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کر چکے ہیں پھر ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو کھڑے ہو گئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے۔ اتنے میں آپ نے ایک آدمی دیکھا جس کا سینہ صف سے نکلا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ کے بندو! تم لوگ ضرور بالضرور اپنی صفیں برابر کر لو گے ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں میں مخالفت ڈال دے گا۔

صحيح مسلم # 979
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp