كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

وحدثنا القاسم بن زكرياء ، حدثنا عبيد الله بن موسى ، عن إسرائيل ، عن فرات يعني القزاز ، عن عبيد الله ، عن جابر بن سمرة ، قال: " صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكنا إذا سلمنا، قلنا بايدينا: السلام عليكم، السلام عليكم، فنظر إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: ما شانكم تشيرون بايديكم، كانها اذناب خيل شمس، إذا سلم احدكم، فليلتفت إلى صاحبه، ولا يومئ بيده ".

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے ہم لوگ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو نماز کے اختتام پر «اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحَمَۃُ اللہِ» کہتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ بھی کرتے تھے۔ یہ دیکھ کر رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں یہ کیا ہو گیا ہے؟ تم اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہو گویا وہ شریر گھوڑوں کی دمیں ہیں۔ تم میں سے جب کوئی نماز ختم کرے تو اپنے بھائی کی جانب منہ کر کے صرف زبان سے «اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحَمَۃُ اللہِ» کہے اور ہاتھ سے اشارہ نہ کرے۔

صحيح مسلم # 971
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp