كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، قال: حدثنا وكيع ، عن مسعر . ح وحدثنا ابو كريب واللفظ له، قال: اخبرنا ابن ابي زائدة ، عن مسعر ، حدثني عبيد الله بن القبطية ، عن جابر بن سمرة ، قال: " كنا إذا صلينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، قلنا: السلام عليكم ورحمة الله، السلام عليكم ورحمة الله، واشار بيده إلى الجانبين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: علام تومئون بايديكم، كانها اذناب خيل شمس، إنما يكفي احدكم ان يضع يده على فخذه، ثم يسلم على اخيه من على يمينه وشماله ".

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب ہم لوگ نماز پڑھتے تو نماز کے اختتام پر دائیں بائیں «اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحَمَۃُ اللہِ» کہتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ بھی کرتے تھے۔ یہ ملاحظہ فرما کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کرتے ہو جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہلتی ہیں۔ تمہیں یہی کافی ہے کہ تم قعدہ میں اپنی رانوں پر ہاتھ رکھے دائیں اور بائیں منہ موڑ کر «اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحَمَۃُ اللہِ» کہا کرو۔

صحيح مسلم # 970
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp