كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب ، قالا: حدثنا ابو معاوية ، عن الاعمش ، عن المسيب بن رافع ، عن تميم بن طرفة ، عن جابر بن سمرة ، قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: " ما لي اراكم رافعي ايديكم، كانها اذناب خيل شمس، اسكنوا في الصلاة "، قال: ثم خرج علينا، فرآنا حلقا، فقال: " مالي اراكم عزين "، قال: ثم خرج علينا، فقال: " الا تصفون كما تصف الملائكة عند ربها؟ "، فقلنا: يا رسول الله، وكيف تصف الملائكة عند ربها؟ قال: " يتمون الصفوف الاول ويتراصون في الصف "،

‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: میں تم کو اس طرح ہاتھ اٹھاتے دیکھ رہا ہوں گویا وہ شریر گھوڑوں کی دمیں ہے۔ تم لوگ نماز میں کوئی حرکت نہ کیا کرو۔ پھر ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حلقہ باندھے دیکھ کر فرمایا: تم لوگ اس طرح صف باندھا کرو جس طرح بارگاہ الہٰی میں فرشتے صف بستہ رہتے ہیں۔ تم لوگ سب سے پہلے اگلی صف پوری کیا کرو اور صف میں مل کر کھڑے ہوا کرو۔

صحيح مسلم # 968
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp