حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وعلي بن حجر واللفظ لابي بكر، قال ابن حجر اخبرنا، وقال ابو بكر حدثنا، علي بن مسهر ، عن المختار بن فلفل ، عن انس ، قال: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم، ذات يوم، فلما قضى الصلاة، اقبل علينا بوجهه، فقال: " ايها الناس، إني إمامكم فلا تسبقوني بالركوع، ولا بالسجود، ولا بالقيام، ولا بالانصراف، فإني اراكم امامي، ومن خلفي "، ثم قال: " والذي نفس محمد بيده، لو رايتم ما رايت، لضحكتم قليلا، ولبكيتم كثيرا "، قالوا: وما رايت يا رسول الله؟ قال: " رايت الجنة والنار "،
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھانے کے فوراً ہی بعد ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”لوگو! میں تمہارا امام ہوں۔ اس لئے مجھ سے پہلے رکوع، سجدہ، قومہ اور سلام نہ پھیرو۔ میں آگے اور پیچھے سے تم کو دیکھتا ہوں۔ اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو چیزیں میں دیکھتا ہوں اگر تم انہیں دیکھ لو تو ہنسو کم اور روؤ زیادہ“، لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ ارشاد ہوا ”میں نے جنت اور دوزخ دیکھی ہے۔“