كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا ابو كريب محمد بن العلاء الهمداني ، حدثنا ابو اسامة ، عن الوليد يعني ابن كثير ، حدثني سعيد بن ابي سعيد المقبري ، عن ابيه ، عن ابي هريرة ، قال: " صلى بنا رسول الله يوما، ثم انصرف، فقال: يا فلان، الا تحسن صلاتك، الا ينظر المصلي إذا صلى كيف يصلي؟ فإنما يصلي لنفسه، إني والله لابصر من ورائي، كما ابصر من بين يدي ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھانے کے بعد فرمایا: اے فلاں! تم اپنی نماز کو اچھی طرح کیوں ادا نہیں کرتے؟ کیا نمازی کو یہ دکھائی نہیں دیتا کہ وہ کس طرح نماز پڑھ رہا ہے؟ حالانکہ نمازی اپنے فائدوں کے لئے نماز پڑھتا ہے اور اللہ کی قسم! میں جس طرح آگے سے دیکھتا ہوں اسی طرح پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔

صحيح مسلم # 957
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp