كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا حسين بن علي ، عن زائدة ، عن عبد الملك بن عمير ، عن ابي بردة ، عن ابي موسى ، قال: مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاشتد مرضه، فقال: " مروا ابا بكر، فليصل بالناس "، فقالت عائشة: يا رسول الله، إن ابا بكر، رجل رقيق، متى يقم مقامك، لا يستطع ان يصلي بالناس، فقال: " مري ابا بكر، فليصل بالناس، فإنكن صواحب يوسف "، قال: فصلى بهم ابو بكر، حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم.

‏‏‏‏ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علیل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس سخت علالت کے زمانہ میں حکم دیا کہ ابوبکر نماز پڑھائیں۔ جس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: یا رسول اللہ! سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بہت نرم دل ہیں، وہ جب آپ کے قائم مقام امامت کریں گے تو نماز نہ پڑھاسکیں گے۔ تو پھر دوبارہ ارشاد ہوا: جاؤ اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ امامت کریں۔ اور اے عائشہ! تم عورتیں یوسف علیہ السلام کی صاحبات ہو۔ اور پھر تادم آخر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے رہے۔

صحيح مسلم # 948
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp