حدثنا محمد بن المثنى ، وهارون بن عبد الله ، قالا: حدثنا عبد الصمد ، قال: سمعت ابي يحدث، قال: حدثنا عبد العزيز ، عن انس ، قال: " لم يخرج إلينا نبي الله صلى الله عليه وسلم ثلاثا، فاقيمت الصلاة، فذهب ابو بكر يتقدم، فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم: بالحجاب، فرفعه فلما، وضح لنا وجه نبي الله صلى الله عليه وسلم، ما نظرنا منظرا قط، كان اعجب إلينا من وجه النبي صلى الله عليه وسلم، حين وضح لنا، قال: فاوما نبي الله صلى الله عليه وسلم بيده إلى ابي بكر، ان يتقدم، وارخى نبي الله صلى الله عليه وسلم الحجاب، فلم نقدر عليه حتى مات ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی علالت کے زمانہ میں تین دن تک ہم کو نماز نہیں پڑھائی۔ اس زمانہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ امامت کر رہے تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرۂ مبارک کا پردہ اٹھایا، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک کا دیدار کیا اور یہ انوکھا منظر ہم کو بے انتہا اچھا معلوم ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھاتے رہنے کا دست مبارک سے اشارہ کیا اور پھر حجرہ کا پردہ چھوڑ لیا۔ اس کے بعد ہم لوگوں نے وفات تک رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔