حدثني عمرو الناقد ، وعبد بن حميد ، وحسن الحلواني ، قال عبد: اخبرني، وقال الآخران: حدثنا يعقوب وهو ابن إبراهيم بن سعد ، وحدثني ابي ، عن صالح ، عن ابن شهاب ، قال: اخبرني انس بن مالك : " ان ابا بكر، كان يصلي لهم في وجع رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي توفي فيه، حتى إذا كان يوم الاثنين، وهم صفوف في الصلاة، كشف رسول الله صلى الله عليه وسلم ستر الحجرة، فنظر إلينا وهو قائم، كان وجهه ورقة مصحف، ثم تبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم ضاحكا، قال: فبهتنا ونحن في الصلاة من فرح بخروج رسول الله صلى الله عليه وسلم، ونكص ابو بكر على عقبيه ليصل الصف، وظن ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خارج للصلاة، فاشار إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده، ان اتموا صلاتكم، قال: ثم دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فارخى الستر، قال: فتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم من يومه ذلك "،
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ علالت میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رحلت فرمائی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے تھے۔ پیر کے دن جب لوگ تمام صف باندھے نماز پڑھ رہے تھے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کمرے کا پردہ اٹھا کر ہماری طرف دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک مصحف کے ورق کی طرح درخشاں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو مذہب اسلام پر مستعد اور نماز میں مشغول دیکھ کر تبسم فرمایا اور ہنسے۔ اور ہم لوگوں کی حالت یہ تھی کہ ہم نماز پڑھنے کے دوران ہی بے انتہا مسرور ہو گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے تشریف لا رہے ہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ محسوس کر کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں پیچھے ہٹنا چاہا۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارہ سے فرمایا: کہ ”تم لوگ اپنی نماز مکمل کرو۔“ اس کے بعد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم پھر اپنے کمرہ میں واپس تشریف لے گئے اور دروازہ کا پردہ چھوڑ لیا اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رحلت فرمائی۔