كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب ، قالا: حدثنا ابن نمير ، عن هشام . ح وحدثنا ابن نمير والفاظهم متقاربة، قال: حدثنا ابي ، قال: حدثنا هشام ، عن ابيه ، عن عائشة ، قالت: " امر رسول الله صلى الله عليه وسلم، ابا بكر ان يصلي بالناس في مرضه، فكان يصلي بهم، قال عروة: فوجد رسول الله صلى الله عليه وسلم من نفسه خفة، فخرج، وإذا ابو بكر يؤم الناس، فلما رآه ابو بكر استاخر، فاشار إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم، اي كما انت، فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم حذاء ابي بكر، إلى جنبه، فكان ابو بكر يصلي بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، والناس يصلون بصلاة ابي بكر ".

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے زمانہ میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو امامت کا حکم دیا وہ نماز پڑھاتے تھے۔ سیدنا عروہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت جب ہلکی ہوئی تو بر بنائے تخفیف نفس مسجد میں تشریف لائے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آہٹ پا کر پیچھے ہٹنا چاہا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے فرمایا کہ تم اپنی جگہ کھڑے رہو۔ اس کے بعد صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے برابر بیٹھ گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور دوسرے لوگوں نے پہلے کی مانند سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امامت میں نماز پوری کی۔

صحيح مسلم # 943
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp