حدثنا محمد بن رافع ، وعبد بن حميد واللفظ لابن رافع، قال عبد: اخبرنا، وقال ابن رافع، حدثنا عبد الرزاق ، اخبرنا معمر ، قال الزهري ، واخبرني حمزة بن عبد الله بن عمر ، عن عائشة ، قالت: " لما دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم بيتي، قال: مروا ابا بكر، فليصل بالناس، قالت: فقلت: يا رسول الله، إن ابا بكر، رجل رقيق، إذا قرا القرآن، لا يملك دمعه، فلو امرت غير ابي بكر، قالت: والله ما بي إلا كراهية، ان يتشاءم الناس باول من يقوم في مقام رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالت: فراجعته مرتين، او ثلاثا، فقال: ليصل بالناس ابو بكر، فإنكن صواحب يوسف ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ بحالت مرض الموت جب رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔“ جس پہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ابوبکر رضی اللہ عنہ بہت نرم دل ہیں وہ جب قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں تو ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں بہہ نکلتی ہیں۔ ان کے ماسوا کسی اور کو امامت کا حکم دیں تو مناسب ہو گا۔ اور اللہ کی قسم! میں نے یہ اس لئے کہا کہ لوگ میرے والد بزرگوار کو منحوس نہ سمجھیں کہ یہ وہ شخص ہیں جو پہلے پہل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور قائم مقام ہوئے ہیں۔ میں نے دو تین مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو والد بزرگوار کی امامت سے باز رکھنے کی کوشش کی لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ دیا کہ ابوبکر ہی امامت کریں گے اور تم خواتین یوسف علیہ السلام کی خواتین کی مانند ہو۔