حدثنا عبد الملك بن شعيب بن الليث ، حدثني ابي ، عن جدي ، حدثني عقيل بن خالد ، قال: قال ابن شهاب : اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود ، ان عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، قالت: " لقد راجعت رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك، وما حملني على كثرة مراجعته، إلا انه لم يقع في قلبي، ان يحب الناس بعده، رجلا قام مقامه ابدا، وإلا اني كنت ارى، انه لن يقوم مقامه احد، إلا تشاءم الناس به، فاردت ان يعدل ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم، عن ابي بكر ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب والد بزرگوار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تو میں نے اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو باز رکھنے کی کوشش کی کہ مجھے خیال ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم مقام ہو گا، لوگ اس کو منحوس کہیں گے اور اس سے محبت نہ رکھیں گے۔ اسی خیال کے مدنظر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو امامت سے کرنے سے معاف رکھیں تو مناسب ہو گا۔