كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا محمد بن بشار ، حدثنا محمد بن جعفر ، حدثنا شعبة . ح وحدثنا عبيد الله بن معاذ واللفظ له، حدثنا ابي ، حدثنا شعبة ، عن يعلى وهو ابن عطاء ، سمع ابا علقمة ، سمع ابا هريرة ، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إنما الإمام جنة، فإذا صلى قاعدا فصلوا قعودا، وإذا قال: سمع الله لمن حمده، فقولوا: اللهم ربنا لك الحمد، فإذا وافق قول اهل الارض، قول اهل السماء، غفر له ما تقدم من ذنبه ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بیان کیا کہ امام ایک ڈھال کی طرح ہے، وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر پڑھو اور وہ جب تسمیع کہے تو تم تحمید کہو۔ کیونکہ جس کا کہنا آسمان والوں کے کہنے کے ساتھ موافق ہوجاتا ہے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔

صحيح مسلم # 934
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp