كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا المغيرة يعني الحزامي ، عن ابي الزناد ، عن الاعرج ، عن ابي هريرة ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " إنما الإمام ليؤتم به، فلا تختلفوا عليه، فإذا كبر فكبروا، وإذا ركع فاركعوا، وإذا قال: سمع الله لمن حمده، فقولوا: اللهم ربنا لك الحمد، وإذا سجد فاسجدوا، وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسا اجمعون ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام اس لئے ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ تم اس کی مخالفت نہ کرنا۔ وہ جب تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور وہ جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ اور وہ جب تسمیع پڑھے تو تم تحمید پڑھو۔ اس کے سجدہ کے ساتھ تم سجدہ کرو اور وہ جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر ہی نماز ادا کرو۔

صحيح مسلم # 930
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp