كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث . ح وحدثنا محمد بن رمح ، اخبرنا الليث ، عن ابي الزبير ، عن جابر ، قال: اشتكى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فصلينا وراءه وهو قاعد، وابو بكر يسمع الناس تكبيره، فالتفت إلينا، فرآنا قياما، فاشار إلينا، فقعدنا فصلينا بصلاته قعودا، فلما سلم، قال: " إن كدتم آنفا لتفعلون فعل فارس، والروم، يقومون على ملوكهم وهم قعود، فلا تفعلوا، ائتموا بائمتكم إن صلى قائما فصلوا قياما، وإن صلى قاعدا فصلوا قعودا ".

‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اس طرح نماز پڑھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مکبر کی حیثیت میں تکبیرات کہتے تھے۔ نماز میں ہمیں کھڑا دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے ہمیں بیٹھنے کا حکم دیا تو ہم بیٹھ گئے۔ پھر بعد فراغت نماز ارشاد عالی ہوا: تم نے اس وقت وہ کام کیا جیسا کہ فارس و روم والے اپنے بادشاہ کے سامنے کھڑے رہتے ہیں اور بادشاہ بیٹھا رہتا ہے۔ اب آئندہ ایسا نہ کرنا بلکہ ہمیشہ اپنے امام کی پیروی کرو اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔

صحيح مسلم # 928
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp