كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا عبدة بن سليمان ، عن هشام ، عن ابيه ، عن عائشة ، قالت: " اشتكى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فدخل عليه ناس من اصحابه يعودونه، فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا، فصلوا بصلاته قياما، فاشار إليهم ان اجلسوا فجلسوا، فلما انصرف، قال: إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا ركع فاركعوا، وإذا رفع فارفعوا، وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسا ".

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی لیکن کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے انہیں بیٹھنے کا حکم دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد فراغت نماز فرمایا: امام اس لیے ہے کہ اس کی پیروی کرو۔ وہ جب رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ اور وہ جب سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور وہ جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔

صحيح مسلم # 926
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp