حدثنا يحيى بن يحيى ، وقتيبة بن سعيد ، وابو بكر بن ابي شيبة ، وزهير بن حرب ، وعمرو الناقد ، وابو كريب جميعا، عن سفيان ، قال ابو بكر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري ، قال: سمعت انس بن مالك ، يقول: " سقط النبي صلى الله عليه وسلم عن فرس، فجحش شقه الايمن، فدخلنا عليه نعوده، فحضرت الصلاة، فصلى بنا قاعدا، فصلينا وراءه قعودا، فلما قضى الصلاة، قال: إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا كبر فكبروا، وإذا سجد فاسجدوا، وإذا رفع فارفعوا، وإذا قال: سمع الله لمن حمده، فقولوا: ربنا ولك الحمد، وإذا صلى قاعدا فصلوا قعودا اجمعون "،
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ گھوڑے پر سے گرنے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دائیں جانب کا بدن چھل گیا۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کے لئے گئے۔ چونکہ نماز کا وقت ہو گیا تھا اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے بیٹھے نماز پڑھائی۔ اور جب ہم سب لوگ نماز پڑھ چکے تو ارشاد ہوا: ”امام اسی لئے بنایا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے وہ جب تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو وہ جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور وہ جب تسمیع پڑھے تو تم تمحید پڑھو اور جب بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر ہی نماز ادا کرو۔“