كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا عمرو الناقد ، وزهير بن حرب واللفظ لعمرو، قالا: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم ، اخبرنا ابن جريج ، عن عطاء ، قال: قال ابو هريرة : في كل الصلاة يقرا، فما اسمعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم اسمعناكم، وما اخفى منا اخفينا منكم، فقال له رجل: إن لم ازد على ام القرآن؟ فقال: إن زدت عليها، فهو خير، وإن انتهيت إليها، اجزات عنك ".

‏‏‏‏ عطاء رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول بیان کیا کہ نماز کی ہر رکعت میں قرأت کرنی چاہئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس نماز میں ہم کو قرأت سنائی، ویسی ہی ہم نے تم کو سنا دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز غیر جہری پڑھی ویسی ہی ہم نے بھی پڑھ کے تم کو بتا دی جس پر ایک آدمی نے کہا کہ اگر میں سورۂ فاتحہ کے علاوہ کچھ اور نہ پڑھوں تو کیا حرج ہے؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔ سورۂ فاتحہ کے بعد قرآن کریم کی مزید آیات پڑھو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اگر صرف سورۂ الحمد پڑھو تو وہ بھی کافی ہے۔

صحيح مسلم # 883
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp