كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا محمد بن رافع ، حدثنا عبد الرزاق ، اخبرنا ابن جريج ، اخبرني ابن شهاب ، عن ابي بكر بن عبد الرحمن ، انه سمع ابا هريرة ، يقول: " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، إذا قام إلى الصلاة، يكبر حين يقوم، ثم يكبر حين يركع، ثم يقول: سمع الله لمن حمده، حين يرفع صلبه من الركوع، ثم يقول وهو قائم: ربنا ولك الحمد، ثم يكبر حين يهوي ساجدا، ثم يكبر حين يرفع راسه، ثم يكبر حين يسجد، ثم يكبر حين يرفع راسه، ثم يفعل مثل ذلك في الصلاة كلها، حتى يقضيها، ويكبر حين يقوم من المثنى بعد الجلوس "، ثم يقول ابو هريرة: إني لاشبهكم صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم،

‏‏‏‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے۔ پھر رکوع کے وقت تکبیر کہتے اور رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے اور پھر یونہی کھڑے کھڑے «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» پڑھتے اور جب سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے وقت بھی تکبیر کہتے اور ختم نماز تک ہر نشست و برخاست کے وقت تکبیر کہتے تھے اور دو رکعت کے بعد جب قیام کرتے تو پھر اللہ اکبر کہتے۔ اس کے بعد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم سب لوگوں کی بہ نسبت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح نماز پڑھتا ہوں۔

صحيح مسلم # 868
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp