كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا محمد بن سلمة المرادي ، حدثنا عبد الله بن وهب ، عن حيوة ، وسعيد بن ابي ايوب وغيرهما، عن كعب بن علقمة ، عن عبد الرحمن بن جبير ، عن عبد الله بن عمرو بن العاص : " انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: إذا سمعتم المؤذن، فقولوا مثل ما يقول، ثم صلوا علي، فإنه من صلى علي صلاة، صلى الله عليه بها عشرا، ثم سلوا الله لي الوسيلة، فإنها منزلة في الجنة، لا تنبغي إلا لعبد من عباد الله، وارجو ان اكون انا هو، فمن سال لي الوسيلة، حلت له الشفاعة ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جب مؤذن کی اذان سنو تو تم وہی کہو جو مؤذن کہتا ہے پھر مجھ پر درود پڑھو کیونکہ جو کوئی مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنی دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے میرے لئے وسیلہ مانگو کیونکہ وسیلہ دراصل جنت میں ایک مقام ہے، جو اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ کو دیا جائے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا اور جو کوئی میرے لیے وسیلہ (مقام محمود) طلب کرے گا اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جائے گی۔

صحيح مسلم # 849
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp