كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي ، اخبرنا عبد الوهاب الثقفي ، حدثنا خالد الحذاء ، عن ابي قلابة ، عن انس بن مالك ، قال: " ذكروا ان يعلموا وقت الصلاة، بشيء يعرفونه، فذكروا ان ينوروا نارا، او يضربوا ناقوسا، فامر بلال ان يشفع الاذان ويوتر الإقامة ".

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے باہمی طور پر تذکرہ کیا کہ لوگوں کو نماز کا وقت بتانے کے لئے کسی چیز کیا تعین ہونا چاہئیے۔ جس پہ بعض لوگوں نے کہا: اس کے لئے آگ روشن کی جائے یا ناقوس بجایا جائے۔ چنانچہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ دو دو مرتبہ اذان کے کلمات ادا کریں اور اقامت کے الفاظ ایک ایک مرتبہ کہا کریں۔

صحيح مسلم # 839
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp