كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا وكيع ، عن هشام ، عن ابيه ، عن عائشة ، قالت: " كان النبي صلى الله عليه وسلم، يصلي صلاته من الليل كلها، وانا معترضة بينه وبين القبلة، فإذا اراد ان يوتر، ايقظني، فاوترت ".

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تہجد کی نماز پوری ادا کرتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قبلہ کی طرف آڑی پڑی رہتی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر ادا کرنا چاہتے تو مجھے جگا دیتے میں بھی وتر پڑھ لیتی۔

صحيح مسلم # 1141
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp