كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثني محمد بن حاتم ، حدثنا بهز ، حدثنا عمر بن ابي زائدة ، حدثنا عون بن ابي جحيفة ، ان اباه " راى رسول الله صلى الله عليه وسلم، في قبة حمراء من ادم، ورايت بلالا اخرج وضوءا، فرايت الناس يبتدرون ذلك الوضوء، فمن اصاب منه شيئا، تمسح به، ومن لم يصب منه، اخذ من بلل يد صاحبه، ثم رايت بلالا اخرج عنزة فركزها، وخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في حلة حمراء مشمرا، فصلى إلى العنزة بالناس ركعتين، ورايت الناس والدواب يمرون بين يدي العنزة ".

‏‏‏‏ عون بن ابی حجیفہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چمڑے کے سرخ شامیانے میں دیکھا اور میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بچا ہوا پانی نکالا تو لوگ اس کو لینے کے لئے جھپٹنے لگے پھر جس کو پانی مل گیا اس نے بدن پر مل لیا اور جس کو نہ ملا اس نے اپنے ساتھی کے ہاتھ سے ہاتھ تر کر لیا پھر میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ انہوں نے برچھا نکالا اور اس کو گاڑ دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سرخ جوڑا پہنے ہوئے اس کو (پنڈلیوں تک) اٹھائے ہوئے نکلے اور برچھے کی طرف کھڑے ہو کر لوگوں کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں اور میں نے آدمیوں کو اور جانوروں کو دیکھا کہ وہ برچھے کے سامنے سے گزر رہے تھے۔

صحيح مسلم # 1120
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp