كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وزهير بن حرب جميعا، عن وكيع ، قال زهير، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان ، حدثنا عون بن ابي جحيفة ، عن ابيه ، قال: " اتيت النبي صلى الله عليه وسلم بمكة وهو بالابطح، في قبة له حمراء من ادم، قال: فخرج بلال بوضوئه، فمن نائل وناضح، قال: فخرج النبي صلى الله عليه وسلم، عليه حلة حمراء، كاني انظر إلى بياض ساقيه، قال: فتوضا واذن بلال، قال: فجعلت اتتبع فاه، ها هنا، وههنا، يقول: يمينا وشمالا، يقول: حي على الصلاة، حي على الفلاح، قال: ثم ركزت له عنزة، فتقدم، فصلى الظهر ركعتين، يمر بين يديه الحمار والكلب، لا يمنع، ثم صلى العصر ركعتين، ثم لم يزل يصلي ركعتين، حتى رجع إلى المدينة ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابطح (ایک مقام ہے باب مکہ پر) میں تھے ایک لال چمڑے کے شامیانے میں تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے وضو کا پانی لے کر نکلے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضو کیا) پھر کسی کو پانی ملا اور کسی کو نہ ملا تو اس نے دوسرے سے لے کر چھڑک لیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سرخ جوڑا پہنے ہوئے باہر نکلے گویا میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ میں نے ان کے منہ کی پیروی کی جو دائیں بائیں کی طرف پھیر کر کہتے تھے «حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ، حَىَّ عَلَى الْفَلاَحِ» پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک پھالا گاڑا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور ظہر کی دو رکعتیں پڑھیں (سفر میں ہونے کی وجہ سے قصر کیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گدھے اور کتے گزر رہے تھے (مگر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم روکتے نہ تھے (کیونکہ بھالے کا سترہ تھا) پھر عصر کی دو رکعتیں پڑھیں دونوں نمازوں کو جمع کیا پھر برابر دو ہی رکعتیں قصر سے پڑھتے رہے یہاں تک کہ واپس مدینہ پہنچے۔

صحيح مسلم # 1119
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp