كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير ، حدثنا ابو خالد يعني الاحمر ، عن حسين المعلم ، قال: ح وحدثنا إسحاق بن إبراهيم واللفظ له، قال: اخبرنا عيسى بن يونس ، حدثنا حسين المعلم ، عن بديل بن ميسرة ، عن ابي الجوزاء ، عن عائشة ، قالت: " كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، يستفتح الصلاة بالتكبير، والقراءة ب الحمد لله رب العالمين، وكان إذا ركع، لم يشخص راسه، ولم يصوبه، ولكن بين ذلك، وكان إذا رفع راسه من الركوع، لم يسجد، حتى يستوي قائما، وكان إذا رفع راسه من السجدة، لم يسجد، حتى يستوي جالسا، وكان يقول في كل ركعتين: التحية، وكان يفرش رجله اليسرى، وينصب رجله اليمنى، وكان ينهى عن عقبة الشيطان، وينهى ان يفترش الرجل ذراعيه افتراش السبع، وكان يختم الصلاة بالتسليم "، وفي رواية ابن نمير، عن ابي خالد: وكان ينهى عن عقب الشيطان.

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شروع کرتے نماز کو اللہ اکبر کہہ کر اور قرأت کو «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» سے (تو «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» آہستہ سے کہتے) اور جب رکوع کرتے تو سر کو نہ اونچا رکھتے نہ نیچا بلکہ (پیٹھ کے برابر رکھتے) بیچ میں اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو دوسرا سجدہ نہ کرتے یہاں تک کہ سیدھا بیٹھ جاتے اور ہر رکعت کے بعد (قعدے میں) التحیات پڑھتے اور بایاں پاؤں بچھا کر داہنا پاؤں کھڑا کرتے اور منع کرتے شیطان کی بیٹھک سے اور منع کرتے تھے اس بات سے کہ آدمی اپنے دونوں ہاتھ زمین پر درندے (جانور) کی طرح بچھائے اور نماز کو سلام سے ختم کرتے تھے۔

صحيح مسلم # 1110
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp