كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثني محمد بن المثنى ، حدثني عبد الاعلى ، حدثنا داود ، عن عامر ، عن مسروق ، عن عائشة ، قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، يكثر من قول: " سبحان الله وبحمده، استغفر الله واتوب إليه، قالت: فقلت: يا رسول الله، اراك تكثر من قول سبحان الله وبحمده، استغفر الله واتوب إليه؟ فقال: " خبرني ربي، اني سارى علامة في امتي، فإذا رايتها، اكثرت من قول سبحان الله وبحمده، استغفر الله واتوب إليه، فقد رايتها إذا جاء نصر الله والفتح سورة النصر آية 1، فتح مكة، ورايت الناس يدخلون في دين الله افواجا {2} فسبح بحمد ربك واستغفره إنه كان توابا {3} سورة النصر آية 2-3 ".

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ فرماتے تھے: «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» کہتی ہیں کہ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں دیکھتی ہوں کہ آپ «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» زیادہ کہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے میرے رب نے بیان کیا کہ تو اپنی امت میں ایک نشانی دیکھے گا۔ پھر جب اس نشانی کو دیکھتا ہوں تو تسبیح کہتا ہوں یعنی «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ» کہتا ہوں۔ وہ نشانی یہ ہے «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ» آخر تک یعنی اللہ کی مدد آ گئی اور مکہ فتح ہو گیا اور لوگ اللہ کے دین میں جوق در جوق شریک ہونے لگے، تو اللہ کی تعریف کر، پاکی بول اور بخشش مانگ اس سے، وہ بخشنے والا ہے۔

صحيح مسلم # 1088
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp