حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا هشيم بن بشير ، اخبرنا هشام بن حسان ، عن قيس بن سعد ، عن عطاء ، عن ابن عباس ، " ان النبي صلى الله عليه وسلم، كان إذا رفع راسه من الركوع، قال: اللهم ربنا لك الحمد، ملء السماوات، وملء الارض وما بينهما، وملء ما شئت من شيء بعد اهل الثناء والمجد، لا مانع لما اعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد "،
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ پڑھتے «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَمِلْءَ الأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِىَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ”اے اللہ! تیری ہی تعریف ہے آسمان، زمین اور ان دونوں کے درمیان جو خلاء ہے ان کے بھرنے کے برابر اور جو چیز اس کے بعد تو چاہے اس کے بھرنے کے برابر، تو ہی تعریف اور بزرگی کے لائق ہے اور نہیں ہے کوئی روکنے والا، جو تو دے اور نہیں کوئی دینے والا جسے تو روک دے اور تیرے مقابلہ میں کسی کی کوشش اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔“