وحدثني ابو بكر بن نافع العبدي ، حدثنا بهز ، حدثنا حماد ، اخبرنا ثابت ، عن انس ، قال: " ما صليت خلف احد، اوجز صلاة من صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في تمام، كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم متقاربة، وكانت صلاة ابي بكر متقاربة، فلما كان عمر بن الخطاب، مد في صلاة الفجر، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم، إذا قال: سمع الله لمن حمده، قام حتى نقول: قد اوهم، ثم يسجد، ويقعد بين السجدتين، حتى نقول: قد اوهم ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کسی کے پیچھے اتنی مختصر نماز نہیں پڑھی جتنی مختصر اور پھر پوری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز قریب قریب ہوتی (یعنی ہر ایک رکن جیسے قیام اور رکوع اور سجود یہ سب ایک دوسرے کے برابر برابر ہوتے) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نماز بھی ایسی تھی۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ ہوا تو انہوں نے فجر کو لمبا کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ ہم لوگ کہنے لگتے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے۔ پھر سجدہ میں جاتے اور دونوں سجدوں کے بیچ میں اتنی دیر تک بیٹھتے کہ ہم کہتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے۔