كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير ، حدثنا ابي ، حدثنا عمرو بن عثمان ، حدثنا موسى بن طلحة ، حدثني عثمان بن ابي العاص الثقفي ، " ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال له: ام قومك، قال: قلت: يا رسول الله، إني اجد في نفسي شيئا، قال: ادنه، فجلسني بين يديه، ثم وضع كفه في صدري بين ثديي، ثم قال: تحول، فوضعها في ظهري بين كتفي، ثم قال: ام قومك، فمن ام قوما، فليخفف، فإن فيهم الكبير، وإن فيهم المريض، وإن فيهم الضعيف، وإن فيهم ذا الحاجة، وإذا صلى احدكم وحده، فليصل كيف شاء ".

‏‏‏‏ سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اپنی قوم کی امامت کرو۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنے دل میں کچھ پاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے نزدیک آ۔ اور مجھے اپنے سامنے بٹھایا پھر اپنی ہتھیلی میرے سینہ پر رکھی۔ اس کے بعد فرمایا: پھر جا۔ اور اپنی ہتھیلی میری پیٹھ پر مونڈھوں کے درمیان میں رکھی۔ اس کے بعد فرمایا: جا اپنی قوم کی امامت کر۔ اور جو کوئی کسی قوم کی امامت کرے وہ ہلکی نماز پڑھے اس لئے کہ لوگوں میں کوئی بوڑھا ہے، کوئی بیمار ہے، کوئی ناتواں ہے، کوئی کام والا ہے، البتہ جب اکیلے پڑھے تو جس طرح جی چاہے پڑھے۔

صحيح مسلم # 1050
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp