كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

وحدثني محمد بن حاتم ، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي ، عن معاوية بن صالح ، عن ربيعة ، قال: حدثني قزعة ، قال: " اتيت ابا سعيد الخدري وهو مكثور عليه، فلما تفرق الناس عنه، قلت: إني لا اسالك عما يسالك هؤلاء عنه، قلت: اسالك عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: ما لك في ذاك من خير، فاعادها عليه، فقال: كانت صلاة الظهر تقام، فينطلق احدنا إلى البقيع، فيقضي حاجته، ثم ياتي اهله، فيتوضا، ثم يرجع إلى المسجد، ورسول الله صلى الله عليه وسلم في الركعة الاولى ".

‏‏‏‏ قزعہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو ان کے پاس بہت سے لوگ جمع تھے۔ جب سب چلے گئے تو میں نے کہا: میں تم سے وہ باتیں نہیں پوچھتا جو یہ لوگ پوچھتے تھے بلکہ میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھتا ہوں۔ انہوں نے کہا: اس کے پوچھنے میں تیری بھلائی نہ ہو گی (کیونکہ تو ویسی نماز نہ پڑھ سکے گا پھر کیا فائدہ) قزعہ نے دوبارہ یہی پوچھا۔ جب سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ظہر کی نماز کھڑی ہوتی اور ہم میں سے کوئی بقیع کو جاتا، اور حاجت سے فارغ ہو کر اپنے گھر آ کر وضو کرتا، پھر مسجد میں آتا، دیکھتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں ہوتے۔

صحيح مسلم # 1021
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp