كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا داود بن رشيد ، حدثنا الوليد يعني ابن مسلم ، عن سعيد وهو ابن عبد العزيز ، عن عطية بن قيس ، عن قزعة ، عن ابي سعيد الخدري ، قال: " لقد كانت صلاة الظهر تقام، فيذهب الذاهب إلى البقيع، فيقضي حاجته، ثم يتوضا، ثم ياتي ورسول الله صلى الله عليه وسلم في الركعة الاولى، مما يطولها ".

‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ظہر کی نماز کھڑی ہو جاتی تھی، پھر جانے والا بقیع کو جاتا اور حاجت سے فارغ ہو کر وضو کر کے آتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں ہوتے، اس قدر اس کو لمبا کرتے۔

صحيح مسلم # 1020
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp