حدثنا يحيى بن يحيى ، اخبرنا هشيم ، عن عبد الملك بن عمير ، عن جابر بن سمرة : " ان اهل الكوفة، شكوا سعدا إلى عمر بن الخطاب، فذكروا من صلاته، فارسل إليه عمر، فقدم عليه، فذكر له ما عابوه به من امر الصلاة، فقال: إني لاصلي بهم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، ما اخرم عنها، إني لاركد بهم في الاوليين، واحذف في الاخريين، فقال: ذاك الظن بك ابا إسحاق "،
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کوفہ والوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی شکایت کی یعنی ان کی نماز کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ آئے۔ انہوں نے بیان کیا جو کوفہ والوں نے نماز کی شکایت کی تھی۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز پڑھاتا ہوں اس میں کمی نہیں کرتا۔ پہلی دو رکعتوں کو لمبا کرتا ہوں اور پچھلی دو رکعتوں کو مختصر کرتا ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابواسحاق! تم سے یہی امید ہے۔