كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا محمد بن المثنى ، حدثنا عبد الاعلى ، عن داود ، عن عامر ، قال: " سالت علقمة، هل كان ابن مسعود، شهد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة الجن؟ قال: فقال علقمة : انا سالت ابن مسعود ، فقلت: هل شهد احد منكم مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة الجن؟ قال: لا، ولكنا كنا مع رسول الله ذات ليلة، ففقدناه، فالتمسناه في الاودية والشعاب، فقلنا استطير او اغتيل، قال: فبتنا بشر ليلة، بات بها قوم، فلما اصبحنا إذا هو، جاء من قبل حراء، قال: فقلنا: يا رسول الله، فقدناك، فطلبناك فلم نجدك، فبتنا بشر ليلة، بات بها قوم، فقال: اتاني، داعي الجن، فذهبت معه فقرات عليهم القرآن، قال: فانطلق بنا، فارانا آثارهم، وآثار نيرانهم، وسالوه الزاد، فقال: لكم كل عظم، ذكر اسم الله عليه، يقع في ايديكم اوفر ما يكون لحما، وكل بعرة علف لدوابكم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فلا تستنجوا بهما، فإنهما طعام إخوانكم "،

‏‏‏‏ عامر سے روایت ہے کہ میں نے علقمہ سے پوچھا: کیا لیلۃ الجن کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ (یعنی جس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں سے ملاقات فرمائی) انہوں نے کہا: نہیں۔ لیکن ایک روز ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گم ہو گئے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہاڑ کی وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا مگر آپ نہ ملے۔ ہم سمجھے کہ آپ کو جن اڑا لے گئے یا کسی نے چپکے سے مار ڈالا اور رات ہم نے نہایت بُرے طور سے بسر کی۔ جب صبح ہوئی تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرا (جبل نور پہاڑ ہے جو مکہ اور منیٰ کے بیچ میں ہے) کی طرف سے آ رہے ہیں۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! رات کو آپ ہم کو نہ ملے۔ ہم نے تلاش کیا جب بھی نہ پایا۔ آخر ہم نے بُرے طور سے رات کاٹی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے جنوں کی طرف سے ایک ہلانے والا آیا۔ میں اس کے ساتھ گیا اور جنوں کو قرآن سنایا۔ پھر ہم کو اپنے ساتھ لے گئے اور ان کے نشان اور ان کے انگاروں کے نشان بتلائے، جنوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے توشہہ چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس جانور کی ہر ہڈی جو اللہ کے نام پر کاٹا جائے تمہاری خوراک ہے۔ تمہارے ہاتھ میں پڑتے ہی وہ گوشت سے پر ہو جائے گی اور ہر ایک اونٹ کی مینگنی تمہارے جانوروں کی خوراک ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہڈی اور مینگنی سے استنجا مت کرو کیونکہ وہ تمہارے بھائی جنوں اور ان کے جانوروں کی خوراک ہے۔

صحيح مسلم # 1007
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp