كِتَاب الصَّلَاةِ نماز کے احکام و مسائل

حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ابو عوانة ، عن موسى بن ابي عائشة ، عن سعيد بن جبير ، عن ابن عباس ، في قوله: لا تحرك به لسانك لتعجل به سورة القيامة آية 16، قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم، يعالج من التنزيل شدة، كان يحرك شفتيه، فقال لي ابن عباس: انا احركهما، كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحركهما، فقال سعيد: انا احركهما، كما كان ابن عباس يحركهما، فحرك شفتيه، فانزل الله تعالى: لا تحرك به لسانك لتعجل به {16} إن علينا جمعه وقرءانه {17} سورة القيامة آية 16-17، قال: جمعه في صدرك، ثم تقرؤه فإذا قراناه فاتبع قرءانه سورة القيامة آية 18، قال: فاستمع، وانصت، ثم إن علينا ان تقراه، قال: فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم، إذا اتاه جبريل استمع، فإذا انطلق جبريل، قراه النبي صلى الله عليه وسلم، كما اقراه ".

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے حکم الہٰی «لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ» آپ اپنی زبان بسرعت یاد کرنے کے لئے نہ ہلائیے۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ نزول قرآن کریم کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہ وقت اپنی زبان سے الفاظ وحی ادا کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ہونٹ ہلاتے ہوئے سعید سے حدیث بیان کی۔ اور سعید نے کہا: جس طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اپنے ہونٹ ہلا رہے تھے، میں بھی اسی طرح اپنے ہونٹ ہلاتا ہوں۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ آپ بسرعت یاد کرنے کے لئے اپنی زبان نہ ہلائیے۔ آپ کے دل میں الفاظ وحی یاد کرا دینا اور پھر آپ کی زبان سے ان کو کہلوا دینا یہ ہمارا کام ہے۔ جب ہم یعنی ہمارا فرشتہ جبرائیل اسے پڑھے تو آپ خاموش سنتے رہتے۔ اس حکم الٰہی کے بعد جب جبرائیل علیہ السلام وحی لاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے الفاظ بہ خاموشی سنتے رہتے۔ اور ان کی روانگی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم وحی الفاظ دہرا دیتے جو جبرائیل علیہ السلام کہہ جاتے تھے۔

صحيح مسلم # 1005
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp