كِتَاب الْحَيْضِ حیض کے احکام و مسائل

حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا ابو اسامة . ح وحدثنا ابو كريب ، حدثنا ابو اسامة ، وابن بشر ، عن هشام ، عن ابيه ، عن عائشة ، " انها استعارت من اسماء، قلادة فهلكت، فارسل رسول الله صلى الله عليه وسلم ناسا من اصحابه في طلبها، فادركتهم الصلاة، فصلوا بغير وضوء، فلما اتوا النبي صلى الله عليه وسلم شكوا ذلك إليه، فنزلت آية التيمم، فقال اسيد بن حضير: جزاك الله خيرا، فوالله ما نزل بك امر قط، إلا جعل الله لك منه مخرجا، وجعل للمسلمين فيه بركة ".

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار مانگ کر لیا تھا وہ جاتا رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں چند لوگوں کو اس کے ڈھونڈنے کے لئے بھیجا وہاں نماز کا وقت آ گیا (اور پانی نہ ملا) انہوں نے بے وضو نماز پڑھ لی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ کر آئے تو شکایت کی اس وقت تیمم کی آیت اتری۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ اللہ تم کو اچھا بدلہ دے اللہ کی قسم! جب کوئی آفت تم پر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو ٹال دیا اور مسلمانوں کا فائدہ کیا۔

صحيح مسلم # 817
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp