وحدثني عمرو الناقد ، وزهير بن حرب . ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة جميعا، عن ابن عيينة ، قال عمرو، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري ، عن سعيد ، وعباد بن تميم ، عن عمه ، " شكي إلى النبي صلى الله عليه وسلم، الرجل يخيل إليه، انه يجد الشيء في الصلاة، قال: لا ينصرف حتى يسمع صوتا، او يجد ريحا "، قال ابو بكر، وزهير بن حرب في روايتهما، هو عبد الله بن زيد.
سعید اور عباد بن تمیم نے عباد کے چچا سے روایت کیا کہ شکایت کی گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، کبھی آدمی کو معلوم ہوتا ہے نماز میں کہ اس کو حدث ہوا (یعنی گمان ہوتا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نماز کو نہ توڑے جب تک حدث کی آواز نہ سنے یا بو نہ سونگھے۔“ ابوبکر اور زھیر نے اپنی روایتوں میں عباد کے چچا کا نام لیا یعنی عبداللہ بن زید۔