وحدثنا يحيى بن يحيى ، ويحيى بن ايوب ، وقتيبة ، وابن حجر ، قال يحيى بن يحيى: اخبرنا، وقال الآخرون: حدثنا إسماعيل وهو ابن جعفر ، عن شريك يعني ابن ابي نمر ، عن عبد الرحمن بن ابي سعيد الخدري ، عن ابيه ، قال: " خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الاثنين إلى قباء، حتى إذا كنا في بني سالم، وقف رسول الله صلى الله عليه وسلم على باب عتبان، فصرخ به، فخرج يجر إزاره، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اعجلنا الرجل، فقال عتبان: يا رسول الله، ارايت الرجل يعجل عن امراته، ولم يمن، ماذا عليه؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما الماء من الماء ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں پیر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا مسجد قباء کی طرف۔ جب ہم بنی سالم کے محلے میں پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور اس کو آواز دی، وہ اپنی ازار گھسیٹتا ہوا نکلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے اس کو جلدی میں ڈالا۔“ سیدنا عتبان رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص جلدی اپنی عورت سے الگ ہو جائے اور منی نہ نکلے تو اس کا کیا حکم ہے؟ (یعنی غسل کرے یا نہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی (یعنی نہانا) پانی سے (یعنی منی نکلنے سے) واجب ہوتا ہے۔