كِتَاب الْحَيْضِ حیض کے احکام و مسائل

وحدثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي ، ومحمد بن حاتم بن ميمون جميعا، عن محمد بن بكر ، قال: اخبرنا ابن جريج . ح وحدثنا إسحاق بن منصور، ومحمد بن رافع واللفظ لهما، قال إسحاق : اخبرنا، وقال ابن رافع ، حدثنا عبد الرزاق ، اخبرنا ابن جريج ، اخبرني عمرو بن دينار ، انه سمع جابر بن عبد الله ، يقول: " لما بنيت الكعبة، ذهب النبي صلى الله عليه وسلم، وعباس ينقلان حجارة، فقال العباس للنبي صلى الله عليه وسلم: اجعل إزارك على عاتقك من الحجارة، ففعل، فخر إلى الارض، وطمحت عيناه إلى السماء، ثم قام فقال: إزاري، إزاري، فشد عليه إزاره "، قال ابن رافع في روايته: على رقبتك، ولم يقل: على عاتقك.

‏‏‏‏ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کعبہ بنایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ پتھر ڈھونے لگے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تم اپنے تہہ بند کو اٹھا کر کندھے پر ڈال لو پتھر اٹھانے کے لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا، اسی وقت زمین پر گر پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آسمان سے لگ گئیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: میری ازار میری ازار۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازار باندھ دی۔ ابن رافع کی روایت میں کندھے کی جگہ گردن کا ذکر ہے۔

صحيح مسلم # 771
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp