كِتَاب الْحَيْضِ حیض کے احکام و مسائل

وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، وابو كريب ، قالا: حدثنا وكيع ، عن هشام بن عروة ، عن ابيه ، عن عائشة ، قالت: " جاءت فاطمة بنت ابي حبيش إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت: " يا رسول الله، إني امراة استحاض، فلا اطهر، افادع الصلاة؟ فقال: لا، إنما ذلك عرق وليس بالحيضة، فإذا اقبلت الحيضة، فدعي الصلاة، وإذا ادبرت، فاغسلي عنك الدم وصلي،

‏‏‏‏ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھےاستحاضہ ہو گیا ہے، میں پاک نہیں ہوتی کیا نماز چھوڑ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہ خون ایک رگ کا ہے حیض کا نہیں ہے جب حیض کے دن آئیں تو نماز چھوڑ دے۔ پھر حیض کے دن گزر جائیں تو خون دھو ڈال اور نماز پڑھ۔

صحيح مسلم # 753
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp