كِتَاب الْحَيْضِ حیض کے احکام و مسائل

حدثنا عمرو بن محمد الناقد ، وابن ابي عمر جميعا، عن ابن عيينة ، قال عمرو، حدثنا سفيان بن عيينة، عن منصور ابن صفية ، عن امه ، عن عائشة ، قالت: " سالت امراة النبي صلى الله عليه وسلم، كيف تغتسل من حيضتها؟ قال: فذكرت انه علمها كيف تغتسل، ثم تاخذ فرصة من مسك فتطهر بها، قالت: كيف اتطهر بها؟ قال: تطهري بها سبحان الله، واستتر "، واشار لنا سفيان بن عيينة بيده على وجهه، قال: قالت عائشة: واجتذبتها إلي، وعرفت ما اراد النبي صلى الله عليه وسلم، فقلت: تتبعي بها اثر الدم، وقال ابن ابي عمر في روايته: فقلت: تتبعي بها آثار الدم،

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: حیض کا غسل کیسے کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا اس کو غسل کرنا، پھر فرمایا: مشک لگا ہوا ایک پھوہا لے اور اس سے پاکی کر وہ بولی: کیسے پاکی کروں۔ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ (تعجب ہے کہ ایسی ظاہر بات بھی نہیں سمجھتی) پاکی کر اس سے۔ اور آڑ کر لی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ سفیان نے بتلایا ہم کو ہاتھ اپنا منہ پر رکھ کر (یعنی شرم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب میں پہچان گئی تھی۔ میں نے کہا:اس پھاہے کو خون کے مقام پر لگا (یعنی شرمگاہ پر)۔

صحيح مسلم # 748
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp