وحدثنا احمد بن جواس الحنفي ابو عاصم ، حدثنا ابو الاحوص ، عن شبيب بن غرقدة ، عن عبد الله بن شهاب الخولاني ، قال: " كنت نازلا على عائشة، فاحتلمت في ثوبي، فغمستهما في الماء، فراتني جارية لعائشة، فاخبرتها، فبعثت إلي عائشة ، فقالت: ما حملك على ما صنعت بثوبيك؟ قال: قلت: رايت ما يرى النائم في منامه، قالت: هل رايت فيهما شيئا؟ قلت: لا، قالت: فلو رايت شيئا غسلته، لقد رايتني وإني لاحكه من ثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم، يابسا بظفري.
عبداللہ بن شہاب خولانی سے روایت ہے، میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اترا، مجھے احتلام ہو گیا کپڑوں میں۔ میں نے ان کو پانی میں ڈبویا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک چھوکری نے یہ دیکھا اور ان سے بیان کیا۔ انہوں نے مجھے بلا بھیجا اور پوچھا: ان کپڑوں کو تم نے کیوں ڈبویا۔ میں کہا خواب میں میں نے وہ دیکھا جو سونے والا دیکھتا ہے۔ (مراد احتلام ہے) انہوں نے کہا: کپڑوں میں تو نے کچھ اثر پایا؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا اگر کپڑوں میں تو کچھ دیکھتا تو اس کو دھو ڈالنا کافی تھا اور میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے سوکھی منی اپنے ناخون سے چھیل ڈالتی۔