كِتَاب الطَّهَارَةِ طہارت کے احکام و مسائل

وحدثنيه حرملة بن يحيى ، اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس بن يزيد ، ان ابن شهاب اخبره، قال: اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود ، " ان ام قيس بنت محصن ، وكانت من المهاجرات الاول، اللاتي بايعن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهي اخت عكاشة بن محصن احد بني اسد بن خزيمة، قال: اخبرتني: انها اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم بابن لها، لم يبلغ ان ياكل الطعام، قال عبيد الله: اخبرتني ان ابنها ذاك، بال في حجر رسول الله صلى الله عليه وسلم، فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بماء، فنضحه على ثوبه، ولم يغسله غسلا ".

‏‏‏‏ عبیداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نے جو پہلی مہاجرات میں سے تھیں،جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی اور وہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں۔ بیان کیا مجھ سے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے ایک بچےکو لے کر آئیں جو کھانا نہیں کھاتا تھا۔ اس بچہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پیشاب کر دیا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور کپڑے پر چھڑک دیا اور اس کو دھویا نہیں۔

صحيح مسلم # 667
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp